قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1901.   أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کفن کی قمیص

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1901.   حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے جبکہ اسے لحد میں رکھا جا چکا تھا، آپ قبر پر کھڑے ہوئے اور اسے نکالنے کا حکم دیا۔ اسے (قبر سے) نکالا گیا، پھر آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کے منہ میں (یا اس کے جسم پر) اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (حکمت کیا تھی؟)