قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1902.   أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتْ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کفن کی قمیص

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1902.   حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ؓ مدینہ میں (قید) تھے تو (ان کی قمیص پھٹی ہوئی تھی، لہٰذا انصار نے ان کے لیے کوئی کپڑا تلاش کیا جو انھیں پہنا سکیں مگر عبداللہ بن ابی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص ان پر صحیح نہ آتی تھی (کیونکہ وہ قد آور تھے اور وہ بھی قد آور تھا) آخر انھوں نے وہی ان کو پہنا دی۔