قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَة)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1908.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ يَعْنِي السُّوءَ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ يَا وَيْلِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے کےلیے جلدی کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1908.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب نیک شخص چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو۔ اور جب برا آدمی چار پائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: افسوس! مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟“