قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْقِيَامِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1923.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ مَا هَذَا قَالُوا أَمْرُ أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کھڑانہ ہو نے کی رخصت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1923.   حضرت ابو معمر بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی ؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ پاس سے گزرا۔ لوگ اس کی وجہ سے کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ (تم کیوں کھڑے ہوئے؟) لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابوموسیٰ ؓ کی ہدایت ہے۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تو صرف ایک یہودی عورت کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے، اس کے بعد کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔