قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْقِيَامِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

1926.   أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الْآخَرُ فَقَالَ الَّذِي قَامَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ قَالَ لَهُ الَّذِي جَلَسَ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَسَ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کھڑانہ ہو نے کی رخصت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1926.   حضرت ابومجلز ؓ سے مروی ہے کہ حضرات ابن عباس اور حسن رضی اللہ عنھم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا۔ ان میں سے ایک کھڑے ہوگئے جبکہ دوسرے بیٹھے رہے۔ کھڑے ہونے والے نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے۔ بیٹھے رہنے والے نے ان سے کہا۔ اللہ کی قسم! میں بھی یقیناً جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے بھی رہے تھے۔