قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ ضَمَّةِ الْقَبْرِ وَضَغْطَتُهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2055.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قبر کا میت کو بھنیچنا اور زور سے دبانا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2055.   حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے (حضرت سعد بن معاذ ؓ کے دفن کے وقت) فرمایا: ”یہ شخص جس کے لیے عرش جھوم گیا، اس (کی روح) کے لیے آسمان کے تمام دروازے کھول دیے گئے اور اس کے جنازے پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے، وہ بھی بھینچ دیا گیا مگر پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔“