قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابٌ كَيْفَ الْفَجْرُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2170.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِكَفِّهِ وَلَكِنْ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: طلوع فجر کیسے ہوگا؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2170.   حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ”بلال رات کو اذان کہتے ہیں تاکہ سوئے ہوؤں کو جگائیں اور جاگے ہوؤں کو لوٹائیں اور فجر اس طرح نہیں ہوتی۔“ اور آپ نے اپنی ہتھیلی سے (اوپر نیچے) اشارہ کیا۔ ”بلکہ فجر اس طرح ہوتی ہے۔“ اور آپ نے اپنی دونوں ہتھیلی سے (اوپر نیچے) اشارہ کیا۔ ”بلکہ فجر اس طرح ہوتی ہے۔“ اور آپ نے اپنی دونوں انگشت شہادت سے دائیں بائیں اشارہ فرمایا۔