قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

219.   أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: حیض اور استحاضے کے خون میں فرق

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

219.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کبھی پاک نہیں ہوتی تو کیا بالکل نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، لہٰذا جب حیض کا خون آنے لگے تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو خون کے آثار دھو کر (غسل کرکے) نماز شروع کردو۔‘‘