قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ إِعْطَاءِ السَّيِّدِ الْمَالَ بِغَيْرِ اخْتِيَارِ الْمُصَّدِّقِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2464.   أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ وَقَالَ عُمَرُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مالک زکا ۃ اپنی مرضی سے دے گا ‘صدقہ لینے والا اپنی مرضی نہیں کرے گا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2464.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ”رسول اللہﷺ نے زکاۃ کی ادائیگی کا حکم دیا۔ آپ سے کہا گیا کہ ابن جمیل، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عباس بن عبدالمطلب نے زکاۃ نہیں دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ابن جمیل تو اس لیے ناراض ہے کہ وہ فقیر تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے مال دار بنا دیا۔ رہا خالد بن ولید تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو۔ انھوں نے تو اپنی زرہیں اور دوسرا جنگی ساز وسامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھا ہے۔ باقی رہے رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب تو ان کی زکاۃ رسول اللہﷺ کے ذمے ہے بلکہ اس کے ساتھ اتنی اور ہے۔“