قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ تَخْلِيلِ الْجُنُبِ رَأْسَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

248.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: جنبی کو(دوران غسل)اپنے سر کا خلال کرنا چاہیے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

248.   حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے نبی ﷺ کے غسل جنابت کی بابت بیان کیا کہ آپ ﷺ (سب سے پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور وضو فرماتے اور اپنے سر کے بالوں میں (گیلی) انگلیاں پھیرتے تھے، (حتیٰ کہ بال گیلے ہو جاتے) پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔