قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ تَخْلِيلِ الْجُنُبِ رَأْسَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

249.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: جنبی کو(دوران غسل)اپنے سر کا خلال کرنا چاہیے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

249.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ (پہلے) اپنے سر کے بالوں کو خلال سے اچھی طرح تر کر لیتے تھے، پھر سر پر تین چلو (پانی) ڈالتے۔