قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقریری

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ الشَّعِيرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2517.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيَاضٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ قَالَ مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو دینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2517.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم (صدقۃ الفطر) جو، کھجور، کشمش یا پنیر سے ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ اور (بعد میں بھی) ہم اسی طرح نکالتے رہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ ؓ کا دور آگیا تو انھوں نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندگی کے دو مد (نصف صاع) جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔“