قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ الْيَدِ الْعُلْيَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2531.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَعُرْوَةُ سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: او پر والا ہاتھ

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2531.   حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے (مال) مانگا، آپ نے مجھے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ ساتھ ہی فرمایا: ”بلا شبہ یہ مال سبز وشیریں ہے۔ جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو دل کے طمع وحرص کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“