قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ الِاسْتِعْفَافِ عَنْ الْمَسْأَلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2588.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مانگنے سے پرہیز کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2588.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ کچھ انصار نے رسول اللہﷺ سے (مال) مانگا۔ آپ نے انھیں عطا کیا۔ انھوں نے پھر مانگا۔ آپ نے پھر دیا حتیٰ کہ جب آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہوگیا، تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جو بھی مال ہوگا، میں وہ تم سے چھپا کر نہ رکھوں گا۔ اور جو شخص سوال سے پرہیز کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھے گا۔ اور جو شخص صبر کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے صابر بنائے گا۔ اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ اچھا اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔“