قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ مَسْأَلَةِ الرَّجُلِ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2602.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ النَّفْسِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ایسی چیز کا سوال کرنا جس کے بغیر چارہ نہ ہو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2602.   حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے (مال) مانگا، آپ نے دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ اور فرمایا: ”اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سبز وشیریں ہے۔ جو شخص اسے قناعت قلب کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی۔ اور جو شخص اسے دلی طمع ولالچ کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (بہر صورت) بہتر ہے۔“