قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ (بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْمَيِّتِ الَّذِي نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2632.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ

سنن نسائی:

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس فوت شدہ کی طرف سے حج کرنا جس نے حج کی نذر مانی ہو(مگر پوری نہ کر سکے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2632.   حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی تھی لیکن وہ (حج کے بغیر) فوت ہوگئی۔ اس کا بھائی نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس بارے میں پوچھنے لگا۔ آپ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری بہن کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتا؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔“