قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ كَيْفَ يَقُولُ إِذَا اشْتَرَطَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2767.   أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ قَالَ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: شرط لگاتے وقت کیا کہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2767.   حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ بنت زبیرؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں بیمار عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں تو آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہوگی جہاں (اے اللہ!) تو مجھے روک لے گا۔“