قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ إِبَاحَةِ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2814.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُسْلِمٍ وَهُوَ الْقُرِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَحِلَّ وَكَانَ فِيمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: جس آدمی کے ساتھ قربانی کاجانور نہ ہو ‘وہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل سکتا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2814.   حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عمرے کا احرام باندھا اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا۔ آپ نے حکم فرمایا کہ جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ (عمرہ کر کے) حلال ہو جائیں گے۔ اور جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے ان میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص شامل تھے، لہٰذا وہ دونوں حلال ہوگئے۔