قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ فِيمَنْ أُحْصِرَ بِعَدُوٍّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2860.   أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا صَدَقَ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: دشمن کی وجہ سے جو شخص (حج سے) روک دیا جائے تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2860.   حضرت حجاج بن عمرو انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص (دوران احرام میں بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے) لنگڑا ہو جائے یا اس کی ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے (اور اس کا بیت اللہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے) تو وہ حلال ہوگیا اور اس پر دوبارہ حج ہوگا۔“ (راوی نے کہا:) میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت حجاج انصاری نے سچ بیان فرمایا۔