Sunan-nasai:
The Book of Hajj
(Chapter: The Sanctity Of The Sanctuary)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
2879.
حضرت حفصہ بنت عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ایک لشکر حرم بیت اللہ کی طرف بھیجا جائے گا۔ جب وہ مقام بیداء (ایک چٹیل اور بنجر میدان) میں پہنچیں گے تو ان کے اول وآخر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اگر ان میں کوئی مومن بھی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ علاقہ ان کے لیے بھی (قیامت تک کے لیے) قبرستان بن جائے گا۔ (اور کافروں کے لیے عذاب)۔“
تشریح:
(1) ”درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔“ یعنی اول وآخر سے مراد سب کے سب ہیں، نہ کہ دو کنارے۔ (2) ”قبرستان بن جائے گا۔“ یعنی ہلاک تو مومن بھی ہو جائیں گے مگر انھیں عذاب نہیں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ظاہراً بھی کافروں سے الگ کر لیے جائیں گے۔ (3) یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
حضرت حفصہ بنت عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ایک لشکر حرم بیت اللہ کی طرف بھیجا جائے گا۔ جب وہ مقام بیداء (ایک چٹیل اور بنجر میدان) میں پہنچیں گے تو ان کے اول وآخر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اگر ان میں کوئی مومن بھی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ علاقہ ان کے لیے بھی (قیامت تک کے لیے) قبرستان بن جائے گا۔ (اور کافروں کے لیے عذاب)۔“
حدیث حاشیہ:
(1) ”درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔“ یعنی اول وآخر سے مراد سب کے سب ہیں، نہ کہ دو کنارے۔ (2) ”قبرستان بن جائے گا۔“ یعنی ہلاک تو مومن بھی ہو جائیں گے مگر انھیں عذاب نہیں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ظاہراً بھی کافروں سے الگ کر لیے جائیں گے۔ (3) یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہو گا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا“، میں نے کہا: بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے قبریں ہوں گی“ (اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہو گا)۔
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Hafsah bint ‘Umar said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘An army will be sent toward this House, and when they are in Al-Baida’, the first and the last of them will be swallowed up by the earth, and those in the middle will not be saved.’ I said: ‘What if there are believers among them?’ He said: ‘It will be graves for them.” (Da’if)