قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ إِبَاحَةِ الْكَلَامِ فِي الطَّوَافِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2922.   أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنْ الْكَلَامِ اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: طواف میں(ضروری )بات چیت جائز ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2922.   حضرت طاؤس ایک ایسے شخص سے بیان کرتے ہیں جنھوں نے نبیﷺ سے فیض صحبت پایا کہ آپﷺ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف نماز (کی طرح عبادت) ہے، لہٰذا اس میں کم ہی کوئی بات کرو۔“ یہ الفاظ یوسف (بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابوسفیان نے حسن بن مسلم کی مخالفت کی ہے۔