قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهْدَى)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2990.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ قَالَتْ فَلَمَّا أَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: جو شخص حج کا احرام باندھے اور قربانی کا جانور ساتھ لائے‘وہ کیا کرے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2990.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں) رسول اللہﷺ کے ساتھ (مکہ مکرمہ کو) نکلے۔ ہم (میں سے اکثر) صرف حج کی نیت رکھتے تھے۔ جب آپ نے بیت اللہ اور صفا مروہ کے طواف کر لیے تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ حلال ہو جائے۔“