قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ فَرْضُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3017.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: عرفات میں وقوف فرض ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3017.   حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ آپ دونوں ہاتھ اٹھائے دعا فرما رہے تھے کہ آپ کی اونٹنی بدک گئی۔ آپ کے ہاتھ مبارک آپ کے سر سے اونچے نہیں ہوتے تھے۔ آپ اسی حالت میں چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔