قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَزْوِيجِ الزَّانِيَةِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

3229.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَهِيَ لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ قَالَ طَلِّقْهَا قَالَ لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ اسْتَمْتِعْ بِهَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَهَارُونُ ثِقَةٌ وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ

سنن نسائی:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بدکار عورت سے شادی

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3229.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے نکاح میں ایک عورت ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ پیاری ہے مگر وہ کسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو نہیں روکتی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دے۔“ وہ کہنے لگا: میں اس سے صبر نہیں کرسکتا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر اسی طرح فائدہ اٹھاتا رہ۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی ؓ ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ عبدالکریم (راوی) قوی نہیں ہے، جبکہ ہارون بن رئاب اس سے زیادہ بہتر ہے۔ اور اس نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے۔ چونکہ ہارون ثقہ ہے،ٍٍ لہٰذا عبدالکریم کے بجائے اس کی حدیث صحیح کہلانے کے زیادہ لائق ہے۔