قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابٌ تَحْرِيمُ بِنْتِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3304.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ وَعِنْدَكَ أَحَدٌ قُلْتُ نَعَمْ بِنْتُ حَمْزَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

سنن نسائی:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رضاعی بھتیجی سے بھی نکاح حرام ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3304.   حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قریش (کے دیگر قبائل) میں تو فراخ دلی سے رشتے فرما رہے ہیں مگر ہمیں (بنو ہاشم کو) محروم رکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرے پاس کوئی (رشتہ) ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! حمزہ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”وہ وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“