قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابٌ الْقَدْرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3312.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ وَمَرَّةً أُخْرَى انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ الْمَجَاعَةِ

سنن نسائی:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوسکتی ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3312.   حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بات آپ پر بہت شاق گزری اور میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناراضی کے اثرات محسوس کیے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں؟ کیونکہ رضات اس دور میں معتبر ہے جب دودھ ہی بھوک مٹاتا ہو۔“