قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ إِحْلَالِ الْفَرْجِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3364.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةً لِامْرَأَتِهِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ وَعَلَيْهِ الشَّرْوَى لِسَيِّدَتِهَا وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لِسَيِّدَتِهَا وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ

سنن نسائی:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کسی کے لیے شرم گاہ (بغیر نکاح کے) حلال کرنا؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3364.   حضرت سلمہ بن محبق ؓ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرلیا۔ یہ مقدمہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اگر اس شخص نے اس سے جبراً جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہوجائے گی اور خاوند کو اس اس جیسی لونڈی اس کی مالکہ (یعنی اپنی بیوی) کو دینی ہوگی اور اگر وہ راضی اور خوش تھی تو وہ اپنی مالکہ کی رہے گی۔ اور مرد کو اپنے مال سے ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہوگی۔“