Sunan-nasai:
The Book of Divorce
(Chapter: Three Simultaneous Divorces And A Stern Warning Against That)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
3401.
حضرت محمود بن لبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی تھیں۔ آپ غصے کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ”کیا میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جاتا ہے؟“ حتیٰ کہ ایک آدمی کھڑا ہو کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟
تشریح:
(1) شریعت نے انسانو ں کی کمزوری اور جلد بازی کو مدنظر رکھتے ہوئے طلاق کے تین مواقع رکھے ہیں اور پہلی دو طلاقوں کے بعد رجوع کی رعایت بھی رکھی ہے تاکہ یہ انتہائی مضبوط تعلق کسی انسان کی جلد بازی کا شکار نہ ہوجائے بلکہ دو طلاقوں کے بعد وہ اچھی طرح سوچ سمجھ لے اور جذبات سے الگ ہو کر فیصلہ کرے۔ جس شخص نے تینوں طلاقیں اکٹھی دے دیں‘ اس نے یہ تمام مواقع گنوا دیے‘ اور اس اہم تعلق کو اشتعال اور جلد بازی کی نذر کردیا حتیٰ کہ اس عورت سے نئے نکاح کا امکان بھی نہ رہا‘ نیز اس نے اس صریح قرآنی ہدایت کی نافرمانی کی ﴿الطَّلاقُ مَرَّتَانِ﴾ (البقرۃ۲:۲۲۹) ”طلاق دوبار ہے“ یعنی طلاق الگ الگ ہونی چاہیے‘ لہٰذا یہ شخص سزا کا مستوجب ہے۔ تبھی تو دوسرے آدمی نے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ کتاب اللہ کو مذاق بنانا‘ نیز علانیہ مخالفت کرنا ناقابل برداشت ہے۔ تبھی آپ سخت ناراض ہوئے۔ (2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا خلاف شرع اور بدعت ہے۔ امام مالک اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں مگر امام شافعی اور احمد رحمہ اللہ اسے حرام نہیں سمجھتے کہ تین طلاقیں مرد کا حق تھا اس نے جیسے چاہا استعمال کرلیا۔ اگر مواقع ضائع کیے ہیں تو اس نے اپنے کیے ہیں۔ البتہ وہ اسے خلاف اولیٰ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا مسلک اس حدیث کے خلاف ہے۔ اگر حیض کی طلاق کو حرام اور بدعت کہا جا سکتا ہے تو اس کو کیوں نہیں؟ جب کہ رسول اللہﷺ نے دونوں مقامات پر ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔ (3) اگر کوئی شخص اس حرام کا ارتکاب کرے تو جمہور اہل علم کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور وہ عورت اس پر حرام ہوجائے گی۔ ا س کے برعکس دوسرا موقف یہ ہے کہ یہ ایک طلاق شمار ہوگی۔ اس کی دلیل صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔ حضرت عمر نے بطور سزا تین ہی کی تنفیذ فرما دی‘ اس لیے بعض اہل علم ایسی صورت میں تین کے بجائے ایک کے وقوع کے قائل ہیں کیونکہ اس نے طلاق کا ایک موقع استعمال کیا ہے۔ باقی رہا تین کا لفظ تو وہ خلاف شرع ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ان تین قراردینا صرف تعزیر اور سزا تھی‘ سیاسی وانتظامی مسئلہ تھا۔ شرعی حکم اپنی جگہ برقرار ہے۔ یہ بات عقلاً اور نقلاً زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ مسلک (ایک واقع ہونا) عوام الناس کے لیے مفید ہے‘ خصوصاً جبکہ ایک صحیح حدیث بھی اس مسلک کی تائید کرتی ہے ورنہ لوگ حلالہ جیسے ذلیل اور غیرت کش فعل کا ارتکاب کرتے ہیں جو شرعاً اور اخلاقاً بہت بڑا جرم ہے۔ حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے فقہاء صحابہ سے بھی یہ مسلک منقول ہے۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
3403
٧
ترقيم دار المعرفة (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار المعرفہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
3401
٨
ترقيم أبي غدّة (دار السلام)
ترقیم ابو غدہ (دار السلام)
3430
تمہید کتاب
طلاق کا عقد نکاح کی ضد ہے ۔عقد کے معنی ہیں گرہ دینا اور طلاق کے معنی ہیں گرہ کھول دینا۔اسی لحاظ سے نکاح کی مشروعیت کے ساتھ ساتھ طلاق کی مشروعیت بھی ضروری تھی کیونکہ بسا اوقات نکاح موافق نہیں رہتا بلکہ مضر بن جاتا ہے تو پھر طلاق ہی اس کا علاج ہے ۔البتہ بلا وجہ طلاق دینا گناہ ہے ۔اس کے بغیر گزارہ ہو سکے تو کرنا چاہیے یہ آخری چارۂ کار ہے طلاق ضرورت کے مطابق مشروع ہے جہاں ایک طلاق سے ضرورت پوری ہوتی ہو وہاں ایک سے زائد منع ہیں چونکہ طلاق بذات خود کوئی اچھا فعل نہیں ہے اس لیے شریعت نے طلاق کے بعد بھی کچھ مدت رکھی ہے کہ اگر کوئی جلد بازی یا جذبات یا مجبوری میں طلاق دے بیٹھے تو وہ اس کے دوران رجوع کر سکتا ہے اس مدت کو عدت کہتے ہیں البتہ وہ طلاق شمار ہوگی شریعت ایک طلاق سے نکاح ختم نہیں کرتی بشرطیکہ عدت کے دوران رجوع ہو جائے بلکہ تیسری طلاق سے نکاح ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد رجوع یا نکاح کی گنجائش نہیں رہتی یاد رہے کہ طلاق اور رجوع خالص مرد کا حق ہے ۔
حضرت محمود بن لبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی تھیں۔ آپ غصے کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ”کیا میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جاتا ہے؟“ حتیٰ کہ ایک آدمی کھڑا ہو کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟
حدیث حاشیہ:
(1) شریعت نے انسانو ں کی کمزوری اور جلد بازی کو مدنظر رکھتے ہوئے طلاق کے تین مواقع رکھے ہیں اور پہلی دو طلاقوں کے بعد رجوع کی رعایت بھی رکھی ہے تاکہ یہ انتہائی مضبوط تعلق کسی انسان کی جلد بازی کا شکار نہ ہوجائے بلکہ دو طلاقوں کے بعد وہ اچھی طرح سوچ سمجھ لے اور جذبات سے الگ ہو کر فیصلہ کرے۔ جس شخص نے تینوں طلاقیں اکٹھی دے دیں‘ اس نے یہ تمام مواقع گنوا دیے‘ اور اس اہم تعلق کو اشتعال اور جلد بازی کی نذر کردیا حتیٰ کہ اس عورت سے نئے نکاح کا امکان بھی نہ رہا‘ نیز اس نے اس صریح قرآنی ہدایت کی نافرمانی کی ﴿الطَّلاقُ مَرَّتَانِ﴾ (البقرۃ۲:۲۲۹) ”طلاق دوبار ہے“ یعنی طلاق الگ الگ ہونی چاہیے‘ لہٰذا یہ شخص سزا کا مستوجب ہے۔ تبھی تو دوسرے آدمی نے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ کتاب اللہ کو مذاق بنانا‘ نیز علانیہ مخالفت کرنا ناقابل برداشت ہے۔ تبھی آپ سخت ناراض ہوئے۔ (2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا خلاف شرع اور بدعت ہے۔ امام مالک اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں مگر امام شافعی اور احمد رحمہ اللہ اسے حرام نہیں سمجھتے کہ تین طلاقیں مرد کا حق تھا اس نے جیسے چاہا استعمال کرلیا۔ اگر مواقع ضائع کیے ہیں تو اس نے اپنے کیے ہیں۔ البتہ وہ اسے خلاف اولیٰ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا مسلک اس حدیث کے خلاف ہے۔ اگر حیض کی طلاق کو حرام اور بدعت کہا جا سکتا ہے تو اس کو کیوں نہیں؟ جب کہ رسول اللہﷺ نے دونوں مقامات پر ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔ (3) اگر کوئی شخص اس حرام کا ارتکاب کرے تو جمہور اہل علم کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور وہ عورت اس پر حرام ہوجائے گی۔ ا س کے برعکس دوسرا موقف یہ ہے کہ یہ ایک طلاق شمار ہوگی۔ اس کی دلیل صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔ حضرت عمر نے بطور سزا تین ہی کی تنفیذ فرما دی‘ اس لیے بعض اہل علم ایسی صورت میں تین کے بجائے ایک کے وقوع کے قائل ہیں کیونکہ اس نے طلاق کا ایک موقع استعمال کیا ہے۔ باقی رہا تین کا لفظ تو وہ خلاف شرع ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ان تین قراردینا صرف تعزیر اور سزا تھی‘ سیاسی وانتظامی مسئلہ تھا۔ شرعی حکم اپنی جگہ برقرار ہے۔ یہ بات عقلاً اور نقلاً زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ مسلک (ایک واقع ہونا) عوام الناس کے لیے مفید ہے‘ خصوصاً جبکہ ایک صحیح حدیث بھی اس مسلک کی تائید کرتی ہے ورنہ لوگ حلالہ جیسے ذلیل اور غیرت کش فعل کا ارتکاب کرتے ہیں جو شرعاً اور اخلاقاً بہت بڑا جرم ہے۔ حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے فقہاء صحابہ سے بھی یہ مسلک منقول ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، (یہ سن کر) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: ”میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قرآن) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو۔“ ۱؎ (آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں۔؟
حدیث حاشیہ:
۱؎ : یعنی اللہ کا حکم کیا ہے اسے نہیں دیکھتے ؟ میں تمہارے درمیان موجود ہوں مجھ سے نہیں پوچھتے اور سمجھتے؟ اللہ کے فرمان کے خلاف عمل کرنے لگے ہو کیا اب یہی ہو گا۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
Makhramah narrated that his father said: "I heard Mahmud bin Labid say: 'The Messenger of Allah was told about a man who had divorced his wife with three simultaneous divorces. He stood up angrily and said: Is the Book of Allah being toyed with while I am still among you? Then a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, shall I kill him?