قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابٌ الطَّلَاقُ لِلَّتِي تَنْكِحُ زَوْجًا ثُمَّ لَا يَدْخُلُ بِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3407.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تین طلاقوں والی عورت کسی شخص سے نکاح کرے اور دخول کے بغیر اسے طلاق ہوجائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3407.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں‘ پھر اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کرلی اور وہ اس کے ساتھ علیحدہ ہوا تو لیکن جماع کیے بغیر طلاق دے دی‘ کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘ حتیٰ کہ وہ دوسرا (نکاح کرنے والا) شخص اس عورت کا مزا چکھے اور عورت اس مرد کا مزا چکھے (لذت جماع حاصل کریں)۔“