قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ خِيَارِ الْأَمَةِ تُعْتَقُ وَزَوْجُهَا حُرٌّ)

حکم : صحيح ، دون قوله : " و كان زوجها حرا " فإنه شاذ

ترجمۃ الباب:

3450.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا أَقَمْتُ عِنْدَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: لونڈی آزاد ہوجائے تو اور اس کا خاوند پہلے سے آزاد ہوتو کیا اسے اختیا ہوگا؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3450.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ کو خریدا لیکن اس کے مالکوں نے ولا کی شرط لگالی۔ میں نے یہ بات نبیﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ”تو اسے آزاد کردے۔ ولا اسی شخص کے لیے ہے جو پیسے دے کر خریدتا ہے۔“ چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے بلایا اور اسے اپنے خاوند (کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے) کی بابت اختیار دیا۔ وہ کہنے لگی: وہ مجھے بہت بڑی دولت دے تب بھی میں اس کے نکاح میں رہنے کے لیے تیار نہیں‘ چنانچہ اس نے اپنی علیحدگی کو پسند کرلیا اور اس کا خاوند آزاد تھا۔