قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْكَرَاهِيَةِ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3611.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت میں تاخیر مکروہ ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3611.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کون صدقے کا ثواب زیادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تو اس وقت صدقہ کرے جب تو تندرست ہو‘ تجھے مال کی ضرورت ہو‘ فقیر کا ڈر ہو اور زندگی کی امید ہو۔ اور صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کر حتیٰ کہ جب روح حلق تک آجائے تو پھر تو کہے: فلاں کو اتنا دے دو۔ اب تو تیرا مال دوسروں کا ہوچکا۔“