قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْكَرَاهِيَةِ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3618.   أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ فَإِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلَاثُ لَيَالٍ إِلَّا وَعِنْدَهُ وَصِيَّتُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَا مَرَّتْ عَلَيَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت میں تاخیر مکروہ ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3618.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اس پر تین راتیں گزریں مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہونی چاہیے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے‘ اس وقت سے میری وصیت (ہر وقت) میرے پاس موجود رہتی ہے۔