قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْعُمْرَى (بَابُ العُمرٰي لِلوَارِثِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3723.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ عَرَضَ عَلَيَّ مَعْقَلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِسَبِيلِهِ

سنن نسائی:

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس کا بیان) عمریٰ ورثاء کے لیے ہوگا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3723.   حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چیز بطور عمریٰ دی تو ہو اس کی ہوگی جس کو دی گئی۔ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ اور رقبیٰ نہ دیا کرو۔ جس شخص کو کوئی چیز بطور رقبیٰ دی گئی تو اپنے راستے ہی پر جائے گی‘ (یعنی جسے دی گئی اسی کی ہوجائے گی‘ واپس نہیں آئے گی)۔“