قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْعُمْرَى (بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَابِرٍ فِي الْعُمْرَى)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3733.   أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ قَالَ عَطَاءٌ هُوَ لِلْآخَرِ

سنن نسائی:

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عمری كےبارےمیں حضرت جابر كى حديث كے ناقلين كے اختلاف الفاظ كا ذكر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3733.   حضرت ابن عمر ؓ سے راویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”عمریٰ اور رقبیٰ مناسب نہیں۔ جس شخص کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دی گئی‘ وہ اسی کی ہے۔ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔“ عطاء کہتے ہیں کہ یہ دوسرے شخص (جسے عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہے اس) کے لیے ہے۔