قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابُ الْكَفَّارَةِ بَعْدَ الْحِنْثِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3788.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ فَلَا يُعْطِينِي وَلَا يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي

سنن نسائی:

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3788.   حضرت ابوالاحوص اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس جاتا ہوں اور اس سے کچھ مانگتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلح رحمی نہیں کرتا‘ پھر کبھی وہ میرا محتاج ہوجاتا ہے اور میرے پاس آکر مجھ سے مانگتا ہے جبکہ میں قسم کھا چکا ہوں کہ میں اسے نہیں دوں گا اور اس سے صلہ رحمی نہیں کروں گا۔ فرمائیے‘ میں کیا کروں؟ آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ کام کروں جو بہتر ہے (یعنی اس سے صلہ رحمی کروں) اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں۔