قسم الحديث (القائل): مقطوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قِسْمِ الْفَيْءِ (بَابُ أَوَّلُ كِتَابُ قِسْمِ الْفَيْءِ)

حکم : صحیح الإسناد مرسل

ترجمۃ الباب:

4145.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: سُئِلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ، فَقَالَ: «أَمَّا سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا سَهْمُ الصَّفِيِّ فَغُرَّةٌ تُخْتَارُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ شَاءَ»

سنن نسائی:

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4145.   حضرت مطرف سے منقول ہے کہ حضرت شعبی سے نبیٔ اکرم ﷺ کے حصے اور آپ کے صَفِیّ (خاص حصے) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ کا (عام) حصہ تو ایک عام مسلمان آدمی کے حصے کے برابر تھا، البتہ صفی (خصوصی حصے) کے بارے میں آپ کو اختیار تھا کہ جو بھی پسندیدہ اور نفیس چیز آپ پسند فرماتے، لے سکتے تھے۔