قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ (بَابٌ إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4269.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»

سنن نسائی:

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

 

  (

باب: جب کوئی شخص اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4269.   حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے، بسم اللہ پڑھے تو اس کا شکار کھا لے۔ اور اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو پھر نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔“