قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ (بَابٌ إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4270.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ - أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: «لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»

سنن نسائی:

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

 

  (

باب: جب کوئی شخص اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4270.   حضرت شعبی نے کہا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ نہرین شہر میں ہمارے پڑوسی تھے، ملنے جلنے والے اور اللہ لوگ (زاہد) آدمی تھے، نے فرمایا کہ میں نے نبیٔ اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، پھر اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تو نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔“