قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ اخْتِلَافِ الْمُتَبَايِعَيْنِ فِي الثَّمَنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4648.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ: رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتْرُكَا

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بیچنے اور خریدنے والے میں قیمت کا اختلاف ہو جائے تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4648.   ۴۶۵۲- حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب خریدنے اور بیچنے والے کا (قیمت وغیرہ میں) اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کسی کے پاس ثبوت نہ ہو تو معتبر بات وہ ہو گی جو سامان کا مالک کہے یا وہ سودا ختم کر دیں۔“