قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ الرَّجُلِ يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

4763.   أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، أَنَّهُ قَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، فَقَلَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ؟» فَأَبْطَلَهَا

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: آدمی اپنا دفاع کرے (اور اس سے فریق ثانی کا نقصان ہو جائے تو کوئی قصاص اور تاوان نہیں)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4763.   حضرت یعلی ابن منیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک آدمی سے لڑ پڑا۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا اور اس کا دانت اکھیڑ دیا۔ یہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے، جیسے اونٹ؟“ پھر آپ نے اسے باطل اور لغو قرار دیا۔ (اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا۔)