قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

4767.   أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى: أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ، فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ؟»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس روایت میں (راویوں کا) عطاء پر اختلاف

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4767.   حضرت یعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا۔ وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا اور اس کا ہاتھ کاٹ کھایا۔ ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ گیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی ﷺ کی عدالت میں لے گیا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ (تیرے منہ میں) چھوڑ دیتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟“