قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابٌ هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4838.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو فُلَانٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کیا کسی شخص کو دوسرے کے جرم میں پکڑا جا سکتا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4838.   بنی یربوع کے ایک آدمی نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ (ہمیں دیکھ کر) کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کے لوگ ہیں۔ انھوں نے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی ایک شخص کا جرم دوسرے کے ذمے نہیں لگایا جا سکتا۔“