قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابٌ هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4839.   أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ» مَرَّتَيْن

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کیا کسی شخص کو دوسرے کے جرم میں پکڑا جا سکتا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4839.   حضرت طارق محاربی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنھوں نے اپنے دور جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا۔ ان سے ہمیں قصاص دلوا دیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ نے دو دفعہ فرمایا: ”کسی ماں کا جرم اس کے بیٹے کے گلے نہیں پڑتا۔“