قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ مَنْ اقْتَصَّ وَأَخَذَ حَقَّهُ دُونَ السُّلْطَانِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4862.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي، فَإِذَا بِابْنٍ لِمَرْوَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَرَأَهُ، فَلَمْ يَرْجِعْ فَضَرَبَهُ، فَخَرَجَ الْغُلَامُ يَبْكِي حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ: لِمَ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ؟ قَالَ: مَا ضَرَبْتُهُ، إِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ فَأَرَادَ إِنْسَانٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَدْرَؤُهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص حاکم تک مقدمہ لے جائے بغیر خود ہی بدلہ لے لے یا اپنا حق لے لے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4862.   حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت مروان کا ایک بیٹا ان کے آگے سے گزرنے لگا۔ انھوں نے اس کو پیچھے دھکیلا لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا تو انھوں نے اسے مارا۔ وہ روتا ہوا چلا گیا حتیٰ کہ حضرت مروان کے پاس پہنچ گیا اور جا کر انھیں بتایا۔ حضرت مروان نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا: آپ نے اپنے بھتیجے (میرے بیٹے) کو کیوں مارا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو نہیں مارا۔ میں نے تو شیطان کو مارا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اپنی طاقت کی حد تک اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ (رکنے سے) انکار کر دے (اور روکنے کے باوجود پھر بھی گزرنے پر مصر رہے) تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“