قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابُ مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لَا يَكُونُ)

حکم : منکر

ترجمۃ الباب:

4883.   أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا قَالَ فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4883.   حضرت صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں اپنی منقش (دھاری دار) چادر پر سویا ہوا تھا جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ ایک ٖآدمی آیا اور اسے کھسکا لے گیا۔ وہ آدمی پکڑا گیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی: آپ صرف تیس درہم کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں؟ میں یہ چادر اس کو بیچ دیتا ہوں۔ قیمت اس سے بعد میں لے لوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہ سب کچھ میرے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟“