قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابُ مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لَا يَكُونُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4891.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4891.   حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی۔ اے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ اس نے حضرت ام سلمہ‬ ؓ ک‬ے ہاں پناہ حاصل کرلی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اگر (چوری کرنے والی ) فاطمہ بنت محمد (ﷺ) بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔