قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ تَعْجِيلِ الْعَصْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

509.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ قُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرَ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عصر کو جلدی پڑھنا مسنون ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

509.   ابوامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس پہنچے تو ہم نے انھیں عصر کی نماز پڑھتے پایا۔ میں نےکہا: چچاجان! یہ کون سی نماز آپ نےپڑھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: عصر کی۔ اور یہ اللہ کے رسول ﷺ کی نماز ہے جو ہم (آپ کے ساتھ) پڑھتے تھے۔