قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزِّينَةِ (بَابُ الْوَصْلِ فِي الشَّعْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5245.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ نِسَاؤُهُمْ مِثْلَ هَذَا

سنن نسائی:

کتاب: زینت سےمتعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بالوں میں دوسرے بال ملانا (ناجائز ہے)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5245.   حضرت حمید بن عبدالرحمن نے فرمایا: میں نےحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کومدینہ منورہ میں منبر پر فرماتے سنا جب کہ انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس جیسے جعلی بالوں سےمنع فرماتے، نیز آپ نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اس قسم کے کام اختیار کیے تو وہ ہلاک ہو گئے۔“