قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزِّينَةِ (بَابُ اتِّخَاذِ الْخَادِمِ وَالْمَرْكَبِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

5372.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا قَالَ كُلٌّ لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ قَالَ إِنَّهُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ

سنن نسائی:

کتاب: زینت سےمتعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نوکر اور سواری رکھنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5372.   حضرت سمرہ بن سہم سے روایت ہے کہ میں حضرت ہاشم عتبہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا۔ ان کو طاعون کا عارضہ لاحق ہوچکا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی بیمارپرسی کے لیے آئے تو حضرت ابو ہاشم رونے لگے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کوئی تکلیف آپ کو بے چین کر رہی ہے؟ یا دنیا (سے جانے) کا غم ہے جب کہ آپ کی دنیا کا بہترین حصہ گزر چکا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی نصیحت فرمائی تھی۔ کاش میں اس پر قائم رہتا آپﷺ نے فرمایا تھا: شاید تجھ پر وہ دور آئے جب لوگوں میں بے تحاشا مال تقسیم کیے جائیں گے۔ تجھے صرف ایک نوکر اور ایک سواری جہاد کے لیے کافی ہے۔“ (واقعتاً وہ دور یا مال) میں نے پایا لیکن میں نے زیادہ مال جمع کر لیا۔