قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَجْتَنِبَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5406.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

سنن نسائی:

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان 

  (

باب: کس چیز سے حاکم کو اجتناب کرنا چاہیے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5406.   حضرت عبد الرحمان بن ابوبکرہ سے منقول ہے کہ میرے والد نے مجھ سے (میرے بھائی) عبید اللہ بن ابوبکرہ کو جو سجستان (سیستان) کے قاضی تھے، یہ لکھوایا کہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”کوئی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“